7 نومبر 2011 - 20:30

عید الضحی مسلمانوں کے نزدیک ایک عظیم عید شمار ہوتی ہے اور اسی دن عراق کا دارالحکومت بغداد متعدد بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ ان دہشتگردانہ کارروائیوں میں تیس سے زیادہ افراد جاں بحق اور زخمی ہوگۓ ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی عراق میں تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوۓ تھے۔

ابنا: عید الضحی مسلمانوں کے نزدیک ایک عظیم عید شمار ہوتی ہے اور اسی دن عراق کا دارالحکومت بغداد متعدد بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ ان دہشتگردانہ کارروائیوں میں تیس سے زیادہ افراد جاں بحق اور زخمی ہوگۓ ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی عراق میں تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوۓ تھے۔یہ واقعات ایسی حالت میں ہورہے کہ جب رواں سال کے آخر تک عراق سے امریکی فوجی عراق سے نکلنے اور اس ملک پر اپنے آٹھ سالہ قبضے کے خاتمے کے پابند ہیں۔ امریکی حکام چونکہ کوئي ایسا طریقہ تلاش کررہے ہیں کہ عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کو ملتوی کرسکیں۔ اس لۓ اس گمان کو تقویت ملی ہے کہ عراق میں کۓ جانے والے حالیہ دہشتگردانہ واقعات میں امریکہ ہی ملوث ہے۔ امریکی حکام نے ہمیشہ عراق میں اپنی موجودگی کے تسلسل کے لۓ ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ واشنگٹن کے حکام نے عراق میں اپنی فوجی موجودگی کے لۓ ہمیشہ سیکورٹی مسائل کا ہتھکنڈہ بھی استعمال کیا ہے۔یہ ظاہر کرنا کہ عراقی سیکورٹی فورسز اس ملک میں سیکورٹی کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں عراق میں بدامنی کو ہوا دینے کے سلسلے میں امریکہ اور دہشتگرد گروہوں کا اصل محرک رہا ہے۔ امریکی حلقے عراق میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے ذریعے اس ملک میں بدامنی کو ہوا دیتے ہیں بعثیوں سے رابطے اور اس کے ساتھ بعث پارٹی اور دوسرے دہشتگرد گروہوں کا آپس میں رابطہ برقرار کرنا عراق پر قبضے کے دوران امریکی اقدامات کا ایک حصہ رہا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ بات مسلم ہے کہ عراق میں جاری بدامنی کے واقعات میں بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر امریکہ ملوث ہے۔ بہرحال عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے اس ملک کے خلاف تیار کی جانے والی ملکی و غیر ملکی سازشوں کا ادراک کرتے ہوۓ اس ملک کے عوام خصوصا سیکورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ ماضی کی نسبت زیادہ ان سازشوں کی بابت ہوشیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ عراقی جب بھی کوئي خطرہ محسوس کرتے ہیں تو ان کے اتحاد میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ قومی اور مذہبی عیدیں ہمارے ملک میں دہشتگردی سے مقابلے کے سلسلے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئي ہیں۔ عراق کو اس وقت ایک جانب بہت سے داخلی مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری جانب یہ ملک امریکی فوجیوں کی پسپائي کا جشن منانے کی تیاریاں کررہا ہے ۔ اسی وجہ سے عراقی حکام نے اپنے سیکورٹی اور خفیہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ آپس میں متحد ہو کر ملک کے اندر سازشوں اور فتنوں کا قلع قمع کردیں ان حکام نے عراقی عوام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرکے ملکی مشکلات کم کرنے کی جانب قدم اٹھائيں۔ بہرحال عراق میں قیام امن و استحکام بغداد حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس میں شک نہیں کہ اس مقصد کے حصول کے لۓ اس ملک کے خلاف تیار کردہ دشمنوں کی ختم نہ ہونے والی سازشوں کے بارے میں عراقی حکام اور سیاسی جماعتوں کی ہوشیاری بہت ضروری ہے ۔...........

/169